MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہیں ھے غم جو مری راہ میں اشجار نہیں

نہیں ھے غم جو مری راہ میں اشجار نہیں
میں بھی اب دھوپ میں سائے کا طلب گار نہیں

شہر کو چھوڑ کے صحرا کی طرف چلتے ہیں
سانس لینا تو کم ازکم وہاں دشوار نہیں

سب نے مانا ھے تجھے اپنا مسیحا جب سے
شہر کا شہر ہی بیمار ھے دوچار نہیں

اس نے رکھ دی ھے گناہوں میں بھی لذت ورنہ
کون ایسا ھے جو جنت کا طلب گار نہیں۔

تم نہیں ہو تو ہر اک چیز بری لگتی ھے
چاند نکلا ھے مگر حسرت۔دیدار نہیں

آسماں اوڑھ کے سوتے ہیں زمیں پر ہم لوگ
گھر بھی ایسا ھے کہ جس میں درودیوار نہیں

گر گیا کٹ کے وہیں شیریں کلامی سے مری
جو سمجھتا تھا مرے ہاتھ میں تلوار نہیں

سہیل اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم