MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہوتا رہا ہے دل مرا بیتاب روز روز

ہوتا رہا ہے دل مرا بیتاب روز روز
وہ دید سے کرتے نہیں سیراب روز روز

شق ہوگیا ہے چاند محبت کی راہ میں
کھلتا نہیں ہے چہرہ ءِ مہتاب روز روز

صد شکر مل گیا وہ مقدر سے راہ میں
ہوتے نہیں کرم کے یوں اسباب روز روز

صدیق کہدیا کبھی فاروق و بوتراب
ملتے نہیں حضور سے القاب روز روز

رمضان کے مہینے میں شیطان قید تھا
روشن تھے خوب منبر و محراب روز روز

ایمان مل گیا ہمیں رمضان مل گیا
کھلتے رہیں کرم کے یوں ابواب روز روز

نسبت کا فیض مل گیا یکبارگی سخی
"ملتا نہیں ہے گوہرِ نایاب روز روز”

سخی سرمست

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم