یارو مری منزل کا پتہ اور ہی کچھ ہے
یا میرے مقدر میں لکھا اور ہی کچھ ہے
ہر شخص مجھے جینے کی دیتا ہے دعائیں
لیکن مرے ہونٹوں پہ دعا اور ہی کچھ ہے
اب دل پہ ترا نام رقم کر لیا میں نے
اب دل کے دھڑکنے کی صدا اور ہی کچھ ہے
جس دن سے جلایا ہے دیا راہِ وفا میں
اس دن سے زمانے کی ہوا اور ہی کچھ ہے
پھولوں نے تو پیغام دیا ہے تجھے کچھ اور
پیغام مرا بادِ صبا اور ہی کچھ ہے
اے چارہ گرو تم کو خبر ہی نہیں اب تک
بیمارِ محبت کی دوا اور ہی کچھ ہے
بے فیض نہیں موسمِ برسات ہے لیکن
بھیگی ہوئی زلفوں کی عطا اور ہی کچھ ہے
رانا خالد محمود قیصر