ڈھلتی ہے فکر شعر میں علم و ہْنر کے بعد
اْٹھتے ہیں سب حجاب نگہہِ پردہ در کے بعد
تسخیرِ کائنات کی تیری یہ جستجو
دیکھیں کہاں ٹھہرتی ہے شمس وقمر کے بعد
قصّہ تمام ہوگا زمان و مکان کا
اس شورشِ فسانۂ شام و سحر کے بعد
جادہ بہت طویل یقینأ ہے عشق کا
منزل مگر قریب ہے حدِ نظر کے بعد
دریائے چشمِ تر میں اسے تو بچا کے رکھ
خِرمن جلے نہ بارشِ برق و شرر کے بعد
عزمِ خلیل ہو تو جنوں اختیار کر
آتشکدہ ہے سامنے ہر رہگذر کے بعد
راشد تھا کل تلک جہاں میلہ لگا ہوا
ویراں ہوئے وہ دار و رسن تیرے سر کے بعد
راشد حسین راشد