MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بیدم شاہ وارثی

بیدم شاہ وارثی 1876ء میں اٹاوہ میں پیدا ہوئے۔ غلام حسین نام اور بیدمؔ تخلص کرتے تھے۔ علومِ رسمیہ کی ابتدائی اور آخری تعلیم اٹاوہ ہی میں ہوئی۔

طبیعت میں شاعرانہ وجدان فطری طور پر ودیعت تھا۔ دوسروں کی غزلیں سنتے اور گنگناتے رہتے تھے۔ رفتہ رفتہ اس مشق نے ارتقاء کی منزلیں طے کی۔ شاعر بننے کی تمنا ئےازلی آگرہ لےگئی جہاں دوسرے احباب و اربابِ وطن بھی موجود تھے۔ حضرت شاہ اکبر داناپوری کے ممتاز شاگرد اور مرید و خلیفہ نثار اکبر آبادی کا حلقۂ تلامذہ اس وقت آگرہ میں عروج پر تھا۔ آپ بھی اس حلقہ میں شامل ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد نعت گو شاعر کا درجہ حاصل کرلیا۔اسی سلسلہ میں استاد کے فیضان صحبت سے متاثر ہوکر سلسلۂ وارثیہ کے روح رواں حاجی وارث علی شاہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور احرام پوش ہوگئے۔ اس کے تھوڑے ہی عرصہ بعد آپ ’’سراج الشعرا‘‘ اور’’ لسان الطریقت‘‘ کے خطاب سے نوازے گئے 24 نومبر 1936ء میں بیدم شاہ وارثی کا انتقال ہوا شاہ اویس کے گورستان دیوہ ضلع بارہ بنکی میں دفن ہوئے۔