MOJ E SUKHAN

آئنے کا ساتھ پیارا تھا کبھی

غزل

آئنے کا ساتھ پیارا تھا کبھی
ایک چہرے پر گزارا تھا کبھی

آج سب کہتے ہیں جس کو ناخدا
ہم نے اس کو پار اتارا تھا کبھی

یہ مرے گھر کی فضا کو کیا ہوا
کب یہاں میرا تمہارا تھا کبھی

تھا مگر سب کچھ نہ تھا دریا کے پار
اس کنارے بھی کنارا تھا کبھی

کیسے ٹکڑوں میں اسے کر لوں قبول
جو مرا سارے کا سارا تھا کبھی

آج کتنے غم ہیں رونے کے لیے
اک ترے دکھ کا سہارا تھا کبھی

جستجو اتنی بھی بے معنی نہ تھی
منزلوں نے بھی پکارا تھا کبھی

یہ نئے گمراہ کیا جانیں مجھے
میں سفر کا استعارہ تھا کبھی

عشق کے قصے نہ چھیڑو دوستو
میں اسی میداں میں ہارا تھا کبھی

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم