MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے
مگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرے

اسے تو اپنی بھی صورت نظر نہیں آتی
وہ اپنے شیشۂ دل کی تو گرد صاف کرے

کیا جو اس نے مرے ساتھ نا مناسب تھا
معاف کر دیا میں نے خدا معاف کرے

وہ شخص جو کسی مسجد میں جا نہیں سکتا
تو اپنے گھر میں ہی کچھ روز اعتکاف کرے

وہ آدمی تو نہیں ہے سیاہ پتھر ہے
جو چاہتا ہے کہ دنیا مرا طواف کرے

وہ کوہ کن ہے نہ ہے اس کے ہاتھ میں تیشہ
مگر زبان سے جب چاہے وہ شگاف کرے

میں اس کے سارے نقائص اسے بتا دوں گا
انا کا اپنے بدن سے جدا غلاف کرے

جسے بھی دیکھیے پتھر اٹھائے پھرتا ہے
کوئی تو ہو مری وحشت کا اعتراف کرے

میں اس کی بات کا کیسے یقیں کروں اعجازؔ
جو شخص اپنے اصولوں سے انحراف کرے

اعجاز رحمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم