MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایک ہی مسئلہ تا عمر مرا حل نہ ہوا

ایک ہی مسئلہ تا عمر مرا حل نہ ہوا
نیند پوری نہ ہوئی خواب مکمل نہ ہوا

شہر دل کا جو مکیں ہے وہ بچھڑتا کب ہے
جس قدر دور گیا آنکھ سے اوجھل نہ ہوا

آج بھی دل کی زمیں خشک رہی تشنہ رہی
آج بھی مائل الطاف وہ بادل نہ ہوا

روشنی چھن کے ترے رخ کی نہ مجھ تک پہنچے
ایک دیوار ہوئی یہ کوئی آنچل نہ ہوا

جن کو اک عمر کا نذرانہ دیے بیٹھے ہیں
آج تک اس سے تعارف بھی مفصل نہ ہوا

ان سے ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں پھر ملتے ہیں
زندہ رہنے کا عمل ہم سے مسلسل نہ ہوا

جس پہ رکھنا تھی مجھے اپنی اساس ہستی
اپنی قسمت میں منورؔ وہی اک پل نہ ہوا

منور رانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم