MOJ E SUKHAN

بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی

غزل

بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی
ابھی کچھ دن یہ سوغاتیں رہیں گی

تڑپ باقی رہے گی جھوٹ ہے یہ
ملیں گے ہم ملاقاتیں رہیں گی

نظر میں چہرہ کوئی اور ہوگا
گلے میں جھولتی بانہیں رہیں گی

سفر میں بیت جانا ہے دنوں کو
مسلسل جاگتی راتیں رہیں گی

زبانیں نطق سے محروم ہوں گی
صحیفوں میں مناجاتیں رہیں گی

مناظر دھند میں چھپ جائیں گے سب
خلا میں گھورتی آنکھیں رہیں گی

کہاں تک ساتھ دیں گے شہر والے
کہاں تک قید آوازیں رہیں گی

آشفتہ چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم