MOJ E SUKHAN

تم کو ہی لکھ رہا ہوں

تم کو ہی لکھ رہا ہوں

یہ خط میں تم کو ہی لکھ رہا ہوں
مگر مجھے یہ یقین بھی ہے
کہ اس نوشتے کو تاقیامت
تمہاری آنکھیں نہ پڑھ سکیں گی

یہ خط عجیب اور منفرد هے
جو قاصدوں اور ڈاکخانوں سے تا ابد اجنبی رہے گا

میں اس کو لکھ کر
طویل جاڑوں کی یخ گزیدہ اداس راتوں میں خود پڑهوں گا
پھر ایک دن پارہ پاره کر کے
عدم کی بھٹی میں پھینک دوں گا

یہ خط جو تم هی کو لکھ رہا ہوں
کہ جس میں خود محوری کا پہلو چھپا ہوا ہے

میں سوچتا ہوں
کہ روز و شب کی رفاقتوں نے
ہمارےاندر طویل اُکتاہٹوں کے خاشاک بھر دیے ہیں
ہمارےجذبے جمائیاں لے رہے ہیں
اور باہمی تفاہم پہ برفباری کی کیفیت هے
‘کہیں تعلق نہ ٹوٹ جائے

سو اب یہی فیصلہ ہےمیرا
تم اپنے آنگن میں جا بسو تو
میں اپنےصحرا کی وسعتوں میں
خوشی خوشی دن گزارنے کا
کوئی طریقہ نکال لوں گا

یہ مرے حرفِ آخری ہیں
میں اس کے بعد کچھ بھی نہیں لکھوں گا
مگر یہ میرا لکھا ہوا خط
تمہارے گھر کے پتے پہ تم کو
کبھی نہ موصول ہو سکے گا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم