MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تھا جو کبھی اک شوق فضول

تھا جو کبھی اک شوق فضول
اب ہے وہی اپنا معمول

کیسے یاد رہی تجھ کو
میری اک چھوٹی سی بھول

غم برگد کا گھنا درخت
خوشیاں ننھے ننھے پھول

اب دل کو سمجھائے کون
بات اگرچہ ہے معقول

آنسو خشک ہوئے جب سے
آنگن میں اڑتی ہے دھول

باصر کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم