MOJ E SUKHAN

ثبوت اشتیاق ہمرہی لاؤ تو آؤ

ثبوت اشتیاق ہمرہی لاؤ تو آؤ
حصار ذات سے باہر نکل پاؤ تو آؤ

زمانوں سے فقط لہریں گمانوں کی گنو ہو
کسی دن تم یہ دریا پار کر جاؤ تو آؤ

حد خواہش میں جینا ہے تو جاؤ راہ اپنی
نہ دشت شوق کی وسعت سے گھبراؤ تو آؤ

عجب بے اختیارانہ تھی ہر آمد تمہاری
اسی موج محبت میں کبھی آؤ تو آؤ

یہ درویشوں کی دنیا ہے کرشمے اس کے دیکھو
جہاں سے ہی نہیں خود سے بھی اکتاؤ تو آؤ

رفاقت اہل غم کی اک نشاط مختلف ہے
جو رکھتے ہو جگر میں درد کا گھاؤ تو آؤ

ہمیں اس حکمت دوراں کا اک نکتہ بہت ہے
اگر دھن ہے الٹ دیں وقت کے داؤ تو آؤ

جلیل عالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم