Jab Airport pa leedr kay qadam Aatay Hain
غزل
جب ائرپورٹ پہ لیڈر کے قدم آتے ہیں
پھول آتے نہیں اطراف سے بم آتے ہیں
اتفاقا کوئی شاعر جو گیا جنت میں
حور بھاگی کے بچو اہلِ قلم آتے ہیں
جو بہت شوق سے جاتے تھے کسینو کی طرف
وہ جوا کھیل کے بادیدہِ نم آتے ہیں
ان کی بیگم کو کراچی بھی قطر ہے اب تو
خط بھی اب صورتِ دینار و درہم آتے ہیں
دیکھنے والے سمجھتے ہیں انہیں اہلِ قلم
جیب میں رکھ کے جو دو چار قلم آتے ہیں
خالد عرفان
Khalid Irfan