MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جنون شوق کا حاصل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

غزل

جنون شوق کا حاصل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
کہاں دونوں کی ہے منزل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

ڈبونا چاہتی تھیں جو بھی ہم دونوں کی کشتی کو
انہیں موجوں میں تھا ساحل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

تمناؤں کے طوفانوں نے فرصت ہی نہ ملنے دی
مقامات نگاہ و دل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

محبت نے کچھ ایسا حوصلہ بخشا تھا دونوں کو
کسی مشکل کو بھی مشکل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

شدید احساس قربت سے جہاں مدہوش تھے ہم تم
وہیں تھا امتحان دل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

محبت صرف اظہار محبت کو نہیں کہتے
فریب سعیٔ لا حاصل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

وفا کا عہد کیسی سادگی کے ساتھ کر بیٹھے
وفا ہے کس قدر مشکل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

سبھی بیگانہ تھے ظاہر میں ہم دونوں کی حالت سے
مگر کوئی نہ تھا غافل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

وہ کہتے ہیں ہمیں بھی کیفؔ رسوا کر دیا تم نے
مگر رسوائی کا حاصل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

کیف مرادآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم