MOJ E SUKHAN

جنوں پہ عقل کا سایا ہے دیکھیے کیا ہو

جنوں پہ عقل کا سایا ہے دیکھیے کیا ہو
ہوس نے عشق کو گھیرا ہے دیکھیے کیا ہو

گئی بہار مگر آج بھی بہار کی یاد
دل حزیں کا سہارا ہے دیکھیے کیا ہو

خموش شمع محبت ہے پھر بھی حسن کی ضو
گلوں سے تا بہ ثریا ہے دیکھیے کیا ہو

شب فراق کی بڑھتی ہوئی سیاہی میں
خدا کو میں نے پکارا ہے دیکھیے کیا ہو

وہی جفاؤں کا عالم وہی ہے مشق ستم
وہی وفا کا تقاضا ہے دیکھیے کیا ہو

غم بتاں میں کٹی عمر اور اب دل کو
شکایت غم دنیا ہے دیکھیے کیا ہو

ہزار بار ہی دیکھا ہے سوچنے کا مآل
ہزار بار ہی سوچا ہے دیکھیے کیا ہو

مرا شباب ترا حسن اور سایۂ ابر
شراب‌ و شعر مہیا ہے دیکھیے کیا ہو

ضیاؔ جو پی کے نہ بہکا وہ رند مستی کوش
پئے بغیر بہکتا ہے دیکھیے کیا ہو

ضیاء فتح آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم