MOJ E SUKHAN

جو شہر مکینوں کو اماں بھی نہيں دیتے

جو شہر مکینوں کو اماں بھی نہيں دیتے
وہ اگلے زمانوں کو نشاں بھی نہيں دیتے

ہر روز سجاتے ہيں سوا نیز ے پہ سورج
رہنے کے لیے اور جہاں بھی نہيں دیتے

ہر روز کٹا دیتے ہيں جو فصل سروں کی
وہ شعلہ بیانوں کو زباں بھی نہيں دیتے

سڑکوں پہ پڑے جسم بھی اب چیخ رہے ہیں
اجڑے ہوئے لوگوں کو مکاں بھی نہيں دیتے

افلاک کی رفتار بھی اب تیز ہے کتنی
گردش کے سوا کوئی زماں بھی نہيں دیتے

ٹھہری ہوں جہاں آ کے لہو رنگ بہاریں
وہ اپنے چناروں کو خزاں بھی نہيں دیتے

نیلما ناہید درانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم