MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جیسے رکھا ہو انگیٹھی پہ بھلکڑ نے کباب

جیسے رکھا ہو انگیٹھی پہ بھلکڑ نے کباب
جیسے صحرا کی آندھی میں جھلستا ہے گلاب

تم نے دیکھی ہے ریالوں کی کمائی لیکن
تم نے دیکھا نہیں پردیس کی عیدوں کا عذاب

ہائے وہ چاند وطن میں جو نظر آتا ہے
بوڑھے چہروں پہ پلٹتا ہوا دیکھا ہے شباب

دوڑتے پھرتے ہیں آنگن میں ہمارے بچے
جس طرح گھوڑا بدکتا ہے بِنا زین و رکاب

رات تٙو مہندی سُکھانے میں گذر جاتی ہے
صبح لاتی ہے وہ خوشیاں کہ نہیں جنکا حساب

جو مقامی ہیں گٙلے مِلتے ہوئے جب دیکھوں
لوگ کہتے ہیں تری آنکھ ہے یا موج ِچناب

اپنی مٹی کی تٙو خُشبو تھی حقیقی عامر
ورنہ پردیس میری آنکھ کا دھوکا تھا جناب

(رحمت اللہ عامر)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم