MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خوابوں کی وادی میں گم بے فکری کی نیند

خوابوں کی وادی میں گم بے فکری کی نیند
اماں کی گودی کی گرمی بچپن جیسی نیند

کانوں میں رس گھولا کرتے لوری کے وہ بول
نندیا پور کی سیر کرانے لے جاتی تھی نیند

ہلکی سی بھی آہٹ پر اب کھل جاتی ہے آنکھ
ورنہ ہو جاتی تھی اپنے گاؤں میں پوری نیند

جب تک ابا جیتے تھے میں لمبی تان کے سوتا
برسوں سے سویا کرتا ہوں اب میں آدھی نیند

جسم تھکن جب چاٹ رہی ہو ، یادوں میں در آئے
چھاؤں گھنیری زلفوں کی وہ دوپہری کی نیند

قل پڑھتے ہی رات کو سونے لگتے ہیں کچھ لوگ
ایسے بھی ہیں جو لاتے ہیں مول بزاری نیند

جس دن سوؤں گا میں خسرو پھیلا کر یہ پاؤں
پوری اُس دن کرلوں گا میں اوڑھے مٹی نیند

(فیروز ناطق خسروؔ)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم