MOJ E SUKHAN

دل لگی اور چیز ہوتی ہے

غزل

دل لگی اور چیز ہوتی ہے
دلبری اور چیز ہوتی ہے

رسم ہے یوں معانقہ کرنا
دوستی اور چیز ہوتی ہے

با وضو ہوں میں قبلہ رو بھی مگر
بندگی اور چیز ہوتی ہے

ان اجالوں کو روشنی نہ کہو
روشنی اور چیز ہوتی ہے

ہم تو لاشیں ہیں سانس لیتی ہوئی
زندگی اور چیز ہوتی ہے

حرف در حرف درد ہیں بابا
شاعری اور چیز ہوتی ہے

بندشیں اور چیز ہیں طارقؔ
شاعری اور چیز ہوتی ہے

اقبال طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم