MOJ E SUKHAN

دل میں ہے جس کی ارزو اب تک

غزل

دل میں ہے جس کی ارزو اب تک
اس کی خوشبو ہے چار سو اب تک

اس نے پھولوں سے گفتگو کی تھی
ہے فدا ان پہ رنگ و بو اب تک

ٹوٹ کے پھول بکھر گئے کب کے
کیوں ہے بھنورے کی جستجو اب تک

دور رہ کے بھی ہوں نشانے پر
اس کی بدلی نہیں ہے خو اب تک

غم جانا پہ ہے خزاں طاری
غم دوراں میں ہے نمو اب تک

سیپ جیسی ہے چاہ روبی کی
سچے موتی کی ارزو اب تک

روبینہ راجپوت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم