MOJ E SUKHAN

دل کی جو سر زمین لگتی ہے

دل کی جو سر زمین لگتی ہے
تیرے زیر نگین لگتی ہے

دیکھ تیرا خیال آتے ہی
زندگانی حسین لگتی ہے

آج خود پر بھی پیار آیا ہے
چاند جیسی جبین لگتی ہے

جس جگہ تو کبھی نظر آئے
وہ بہشتِ یقین لگتی ہے

اپنی قسمت جہان بھر میں ہمیں
بہتر و بہتریں لگتی ہے

وہ نظر دل نواز زرغونے
دل کی ہی ہم نشین لگتی ہے

زرعونے خالد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم