MOJ E SUKHAN

رخ حیات پہ رنگ ملال اب بھی ہے

رخ حیات پہ رنگ ملال اب بھی ہے
کسی کو بھولنا کار محال اب بھی ہے

نہ جانے کب سے ہے صحراؤں کا سفر درپیش
مگر یہ دل ہے کہ دریا مثال اب بھی ہے

نبھا رہا ہے تعلق رفیق دیرینہ
غم نفس کو ہمارا خیال اب بھی ہے

ردائے زخم سے کل بھی دمک رہا تھا بدن
نگار خانۂ ہستی نہال اب بھی ہے

دراز دستئ شام فراق سے کہہ دو
کہ میری روح میں کیف وصال اب بھی ہے

ملا تو ہے وہ بظاہر تپاک سے لیکن
نگاہ کہتی ہے شیشے میں بال اب بھی ہے

زباں بریدوں کے تیور بتا رہے ہیں رازؔ
نگاہ و لب پہ وہ حرف سوال اب بھی ہے

رفیع الدین راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم