MOJ E SUKHAN

زمانہ جھک گیا ہوتا اگر لہجہ بدل لیتے

غزل

زمانہ جھک گیا ہوتا اگر لہجہ بدل لیتے
مگر منزل نہیں ملتی اگر رستہ بدل لیتے

بہت تازہ ہوا آتی بہت سے پھول کھل جاتے
مکان دل کا تم اپنے اگر نقشہ بدل لیتے

خطا تم سے ہوئی آخر تمہارا کیا بگڑ جاتا
یہ بازی بھی تمہاری تھی اگر مہرہ بدل لیتے

ابھی تو آئنہ سے ہے مسلسل دوستی اپنی
شناسائی کہاں رہتی اگر چہرہ بدل لیتے

مرے حرفوں کے یہ موتی مرے ہاتھوں بکھر جاتے
غبار بے یقینی میں اگر رستہ بدل لیتے

فلک کے اس کنارے کا وہ لمحہ ہم کو مل جاتا
ملا تھا ایک ہی لمحہ اگر لمحہ بدل لیتے

بہت بے رنگ چہروں پر بہت سے رنگ آ جاتے
کسی اچھے فسانے سے اگر قصہ بدل لیتے

اسی خواہش کے دامن میں وہی سکے کھنک اٹھتے
صدا تبدیل کر لیتے اگر کاسہ بدل لیتے

فرح اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم