MOJ E SUKHAN

زندگی موت کے آغوش سے پیدا کرنا

زندگی موت کے آغوش سے پیدا کرنا
ڈوب کر بحر میں طوفان سے کھیلا کرنا

آئے رونا بھی تو ہنسنے کا ارادہ کرنا
جوش غم میں نہ کبھی ضبط سے گزرا کرنا

دیکھنا شوق کی فطرت کو نہ رسوا کرنا
چشم مشتاق یونہی ان کا نظارہ کرنا

رنگ لائے گا عجب جلوہ‌ گہہ محشر میں
ذوق‌ دیدار مرا آپ کا پردہ کرنا

موج فطرت کا ہر انداز ہے تخریب شعار
اے چمن زار بہاروں سے نہ رشتہ کرنا

بہت آسان تھا ربی ارنی کہہ دینا
کوئی آساں نہ تھا جلووں کا نظارہ کرنا

چاک دامانیٔ گل بر سر معراج بہار
ہے جنوں خیز ادا ہوش کا دعویٰ کرنا

سیکھئے عقدہ کشائی کی ادائیں جنبشؔ
نہ ہوا کچھ بھی یہ تقدیر کا شکوہ کرنا

جنبش خیر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم