سفر بڑھا کے چبھن آبلوں میں چھوڑ گیا
جدا ہوا تو کڑی الجھنوں میں چھوڑ گیا
گزر گیا کوئی آئینہ خانۂ دل سے
نگہ کا عکس مگر آئنوں میں چھوڑ گیا
جزا کی طرح سما کر مری نگاہوں میں
سزا کا رنگ مرے آنسوؤں میں چھوڑ گیا
وہ کون تھا جو ہماری سلگتی سانسوں کو
بنا کے برف پگھلتی رتوں میں چھوڑ گیا
وہ جاتے جاتے دعاؤں کے چاک پر رکھ کر
مرا نصیب نئی گردشوں میں چھوڑ گیا
عجیب شخص تھا اک عمر پاس رہ کر بھی
رسائیوں کی طلب بازوؤں میں چھوڑ گیا
سید انصر