MOJ E SUKHAN

سناٹے کی گونج سنی ہے

سناٹے کی گونج سنی ہے
تم نے کیا کچھ بات کہی ہے

لفظوں کے کچھ کنکر پھینکو
جھیل سی گہری خاموشی ہے

تم تنہا ہو ہم ہیں اکیلے
کس کو کس کی آہ لگی ہے

نین کنارے بھیگے بھیگے
رات کو بارش پھر برسی ہے

ہے انجام بچھڑنا اس کا
میں نے کہانی سن رکھی ہے

کرن رباب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم