MOJ E SUKHAN

صحراؤں میں دریا بھی سفر بھول گیا ہے

صحراؤں میں دریا بھی سفر بھول گیا ہے
مٹی نے سمندر کا لہو چوس لیا ہے

دنیا کی ملامت کا بھی اب خوف ہے دل کو
خاشاک نے موجوں کو گرفتار کیا ہے

منزل ہے نہ جادہ ہے نہ سایہ ہے نہ پانی
تنہائی کا احساس فقط راہنما ہے

سورج بھی پڑا روتا ہے اک گہرے کنویں میں
برسوں ہوئے آکاش بھی دھندلایا ہوا ہے

بچھڑے ہوئے خواب آ کے پکڑ لیتے ہیں دامن
ہر راستہ پرچھائیوں نے روک لیا ہے

کرنوں سے تراشا ہوا اک نور کا پیکر
شرمایا ہوا خواب کی چوکھٹ پہ کھڑا ہے

پھولوں سے لدی ٹہنیاں پھیلائے ہیں بانہیں
خوشبو کا بدن خاک میں پامال پڑا ہے

دیوار و در شہر پہ ہیں خون کے دھبے
رنگوں کا حسیں قافلہ صحرا میں لٹا ہے

وحید اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم