MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

طبیعت ان دنوں اوہام کی ان منزلوں پر ہے

طبیعت ان دنوں اوہام کی ان منزلوں پر ہے
دل کم حوصلہ کاغذ کی گیلی کشتیوں پر ہے

گذشتہ موسموں میں بجھ گئے ہیں رنگ پھولوں کے
دریچہ اب بھی میرا روشنی کے زاویوں پر ہے

ہزاروں آبنوسی جنگلوں کا حسن کیا معنی
ہمیں جب سانس لینا کیمیائی تجربوں پر ہے

کڑا ہے میری اجرک پر بلوچی کام شیشے کا
کسی کے عکس کی قوس قزح سب آئینوں پر ہے

مرے آنگن میں اک ننھی گلہری کا بسیرا ہے
بہت معصوم سا اک نقش میری کیاریوں پر ہے

میں اس پر اپنے اندر کی حمیراؔ وار آتی ہوں
مگر وہ بے یقینی میں ابھی پہلی حدوں پر ہے

حمیرہ رحمان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم