MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عجب پر لطف منظر دیکھتا رہتا ہوں بارش میں

غزل

عجب پر لطف منظر دیکھتا رہتا ہوں بارش میں
بدن جلتا ہے اور میں بھیگتا رہتا ہوں بارش میں

صدائیں ڈوب جاتی ہیں ہوا کے شور میں اور میں
گلی کوچوں میں تنہا چیختا رہتا ہوں بارش میں

دریچے میں در آتے ہیں بہت سے مہرباں چہرے
میں ان پر شوخ جملے پھینکتا رہتا ہوں بارش میں

دیے جلتے ہیں، بجھتے ہیں، مرے اطراف میں اور میں
بس اک سائے کے پیچھے بھاگتا رہتا ہوں بارش میں

پس قوس قزح اک صورت مہتاب کی جھلمل
میں اس جھلمل کو پہروں دیکھتا رہتا ہوں بارش میں

نہ سونا میرے بس میں ہے، نہ شب بھر جاگنا خالدؔ
میں آنکھیں کھولتا اور میچتا رہتا ہوں بارش میں

خالد معین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم