MOJ E SUKHAN

غم ہائے محبت کا اثر دیکھ رہا ہوں

غم ہائے محبت کا اثر دیکھ رہا ہوں
بکھرے ہوئے دامن پہ گہر دیکھ رہا ہوں

اے حسن رخ یار جدھر دیکھ رہا ہوں
اک حسب تخیل و نظر دیکھ رہا ہوں

اک نور کی دنیا ہے مری شوق کی منزل
ہر ذرے کو خورشید‌ نظر دیکھ رہا ہوں

تم اور ابھی حسن کے پردوں کو اٹھاؤ
میں آج حد‌ تاب نظر دیکھ رہا ہوں

ہر آہ شرر‌ خیز ہے مرغان قفس کی
دامان فغاں شعلہ اثر دیکھ رہا ہوں

یوں کاکل‌ و رخ اپنے تصور میں ہیں جنبشؔ
اک مرحلۂ‌ شام و سحر دیکھ رہا ہوں

جنبش خیرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم