MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

غم ہنسی میں چھپا دیا ہوگا

غم ہنسی میں چھپا دیا ہوگا
چشم نم نے بتا دیا ہوگا

بھول جانے کی اس کو عادت تھی
اس نے مجھ کو بھلا دیا ہوگا

ایک خط تھا ثبوت چاہت کا
وہ بھی اس نے جلا دیا ہوگا

رات چپکے سے لے اڑی تھی ہوا
راز دل کا بتا دیا ہوگا

ہجر کے مارے دل کو بھی اس نے
جانے کیسے سلا دیا ہوگا

پھر بلایا ہے آج ناصح نے
گل کسی نے کھلا دیا ہوگا

ہے یقیں مجھ کو ذکر پر میرے
وہ فقط مسکرا دیا ہوگا

الماس شبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم