MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

فقیر موجی خراب حالوں کا کیا بنے گا

غزل

فقیر موجی خراب حالوں کا کیا بنے گا
یہ عشق کرتی اداس نسلوں کا کیا بنے گا

ہمارے پرکھوں نے ہم سے بہتر گزار لی ہے
میں سوچتا ہوں ہمارے بچوں کا کیا بنے گا

ہمارے جسموں کا خاک ہونا تو ٹھیک ہے پر
تمہاری آنکھوں تمہارے ہونٹوں کا کیا بنے گا

ہمیں تو رونے میں کوئی دقت نہیں ہے لیکن
وہ پوچھنا تھا کہ رونے والوں کا کیا بنے گا

مذاق اڑاتے ہیں لوگ فرضی کہانیوں کا
کہ سیدھے سادے سے ان بزرگوں کا کیا بنے گا

تلاش کرتی ہیں اس بدن کی بشارتوں کو
حقیر سوچوں حریص بانہوں کا کیا بنے گا

وہ حسن ایسے ہی خرچ ہوتا رہا تو ساحر
ہماری نظموں ہماری غزلوں کا کیا بنے گا

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم