MOJ E SUKHAN

لب تک آیا گلہ ہمیشہ سے

لب تک آیا گلہ ہمیشہ سے
اور میں چپ رہا ہمیشہ سے

سب ہواؤں سے جنگ کرتا رہا
ایک ننھا دیا ہمیشہ سے

سوچ پر لگ سکی نہ پابندی
یوں ہی آئی ہوا ہمیشہ سے

کتنی شکلیں بدل کے آتا ہے
اک وہی واقعہ ہمیشہ سے

بات آسودگی کی ہوتی ہے
کون کس کو ملا ہمیشہ سے

یاد کرتا رہا کسی کو کوئی
پھول دل میں کھلا ہمیشہ سے

اس نگہ کے سبب سے پایا ہے
سب نے اپنا پتا ہمیشہ سے

عدل فریاد سے ملا نہ کبھی
وقت چیخا کیا ہمیشہ سے

یہ فریب وفا نیا تو نہیں
یوں ہی ہوتا رہا ہمیشہ سے

سب اسے ڈھونڈتے رہے اور وہ
یوں ہی چھپتا رہا ہمیشہ سے

بچے سن کر کہانی کہتے ہیں
یوں ہی کیسے ہوا ہمیشہ سے

زندگی اتنی رائیگاں کیوں ہے
کیوں نہ وہ مل سکا ہمیشہ سے

وہ جو دریا کے بیچ رہتا ہے
وہی پیاسا ملا ہمیشہ سے

سب پرندے فضا میں اڑتے ہیں
جال بچھتا رہا ہمیشہ سے

کارواں راستے میں چلتے رہے
راستہ چپ رہا ہمیشہ سے

قیمتی تھا ہوائے غم کے لیے
ایک دل کا دیا ہمیشہ سے

چھوٹی چھوٹی سی خواہشوں کے لیے
کوئی زندہ رہا ہمیشہ سے

دل ہے کیا چیز حل ہوا نہ کبھی
میرا یہ مسئلہ ہمیشہ سے

ہر مسافر کے ساتھ آتا ہے
اک نیا راستہ ہمیشہ سے

آج تک یہ نہیں کھلا عادل
کیا ہوا فیصلہ ہمیشہ سے

ہوئی دراصل مات کس کو یہاں
جیت میں کون تھا ہمیشہ سے

تاجدار عادل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم