MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مجھے الزام نہ دے ترک شکیبائی کا

مجھے الزام نہ دے ترک شکیبائی کا
مجھ سے پوشیدہ ہے عالم تری رعنائی کا

مانع جلوہ گری خوف ہے رسوائی کا
بس اسی پر تمہیں دعویٰ ہے زلیخائی کا

کیا کہوں گر اسے اعجاز محبت نہ کہوں
حسن خود محو تماشا ہے تماشائی کا

اشک جو آنکھ سے باہر نہیں آنے پاتا
آئینہ ہے مرے جذبات کی گہرائی کا

تیرے آغوش میں کیا جانیے کیا عالم ہو
دل دھڑکتا ہے تصور سے تمنائی کا

شکن بستر و نمناکیٔ بارش ہیں گواہ
پوچھ لو ان سے فسانہ شب تنہائی کا

کشش بدر سے چڑھتا ہوا دریا دیکھا
اللہ اللہ وہ عالم تری انگڑائی کا

عندلیب شادانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم