MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں محل ریت کے صحرا میں بنانے بیٹھا

میں محل ریت کے صحرا میں بنانے بیٹھا
چند الفاظ کو ماضی کے بھلانے بیٹھا

حادثے سے ہی ہوا غم کا مداوا میرے
فلسفہ صبر کا لوگوں کو پڑھانے بیٹھا

تھک کے سائے میں ببولوں کے سکوں جب چاہا
اس کا ہر پتہ مجھے کانٹے لگانے بیٹھا

جس نے توڑا سبھی ناطوں سبھی رشتوں کو مرے
عمر بھر کا وہی اب قرض چکانے بیٹھا

اس کے تلخاب سے کب پیاس مری بجھ پائی
گھر سمندر کے کنارے ہی بسانے بیٹھا

جسم کے بخیے جو ادھڑے تو ادھڑتے ہی رہے
جامہ ریشم کا پہنے کو سلانے بیٹھا

لوگ تھے گرد الاؤ کے مگر میں نیرؔ
جسم کی آگ کو پانی سے بجھانے بیٹھا

اظہر نئیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم