MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نخل ممنوعہ کے رخ دوبارہ گیا میں تو مارا گیا

نخل ممنوعہ کے رخ دوبارہ گیا میں تو مارا گیا
عرش سے فرش پر کیوں اتارا گیا میں تو مارا گیا

جو پڑھا تھا کتابوں میں وہ اور تھا زندگی اور ہے
میرا ایمان سارے کا سارا گیا میں تو مارا گیا

غم گلے پڑ گیا زندگی بجھ گئی عقل جاتی رہی
عشق کے کھیل میں کیا تمہارا گیا میں تو مارا گیا

مجھ کو گھیرا ہے طوفان نے اس قدر کچھ نہ آئے نظر
میری کشتی گئی یا کنارہ گیا میں تو مارا گیا

مجھ کو تو ہی بتا دست و بازو مرے کھو گئے ہیں کہاں
اے محبت مرا ہر سہارا گیا میں تو مارا گیا

عشق چلتا بنا شاعری ہو چکی مے میسر نہیں
میں تو مارا گیا میں تو مارا گیا میں تو مارا گیا

مدعی بارگاہ محبت میں فرتاشؔ تھے اور بھی
میرا ہی نام لیکن پکارا گیا میں تو مارا گیا

فرتاش سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم