MOJ E SUKHAN

وہم نہیں ہے

ڈھلتے ڈھلتے
ایک روپہلے منظر نے کچھ سوچا پلٹا
پگڈنڈی سنسان پڑی تھی
مٹیالی اور سرد ہوائیں
ہاتھ جھلاتی شاخیں
روکھے سوکھے پتے
تنہا پیڑ پہ بیٹھے بیٹھے
چٹخ رہے تھے
ٹوٹ رہے تھے
خاک اڑاتی پگڈنڈی پر
شام سمے کا دھندلا بادل
جھکنے لگا تھا
ڈھلتے ڈھلتے
ایک روپہلے منظر کی ان بھید بھری
آنکھوں میں کوئی
جگنو چمکا تارا ٹوٹا وہم نہیں ہے
آج ان کھوئی کھوئی
بوجھل آنکھوں میں
کوئی جگنو چمکا
تارا ٹوٹا
لحظہ بھر کو
وہم نہیں ہے

گلناز کوثر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم