گھر آنے کو جب مل نہ سکی کوئی سواری
سو چا کہ چلو چل کے پکڑ لیں کوئی لاری
جس بس میں سفر کرنے کو مجبور ہوئے ہم
اس بس کا ’’خداوند‘‘ تھا اک ہٹلراعظم
اس سوچ میں تھا، بس کو چلاۓ نہ چلاۓ
ڈرتا تھا کہ رستے میں دھرا ٹوٹ نہ جاۓ
جب چڑھ گئی ہر ایک سواری پر سواری
اس وقت بریلی سے روانہ ہوئی لاری
اللہ رے لاری کی وہ اٹھلاتی ہوئی چال
میکے سے دلہن چلنے لگی جانب سسرال
لاری کو گوارا ہی نہ تھی منت مہمیز
آزاد طبیعت تھی، کبھی سست، کبھی تیز
رستے میں ہر افتاد مصیبت کا تھا امکاں
لاری ہی پہ لکھا تھا کہ اللہ نگہباں
سیدھی عدم آباد کو جاتی تھی یہ لاری
مخلوق کو خالق سے ملاتی تھی یہ لاری
ملتا تھا ٹکٹ بس میں، شہیدوں کے جہاں کا
’’دنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا‘‘
یوں ہارن بجاتی تھی کہ سن کر کوئی ڈر جائے
مطلب یہ تھا، رہگیر نہ مرتا تو مر جائے
چلتی تھی ہر اک گام پہ پیتی ہوئی پانی
چہرے سے عیاں تھا اثر سوز نہانی
دھکے نہ لگیں اس کو تو ہوتی نہ تھی اسٹارٹ
کیا جانے وہ لاری تھی کہ تھی کوئی بل اسٹارٹ
کچھوے کی طرح چلتی تھی جب ناز دکھاتی
راکٹ کی طرح اڑتی تھی جب موڈ میں آتی
یہ کہہ کے ٹریفک کو بناتی تھی نشانہ
’’سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ”
اس غم میں کہ مل جائے کوئی اور سواری
ہر گور غریباں پہ ٹھہر جاتی تھی لاری
لاری میں مسافر تھے پریشان و زبوں حال
لے آئی تھی لاری میں انہیں شامت اعمال
کھڑکی سے لگی بیٹھی تھی اک شوخ نگارا
کھڑکی پہ یہ لکھا تھا ’’اک تیرا سہارا ”
اک دیو قوی جثہ بھی موجود تھے ہم میں
قاروں کا خزانہ لیے بیٹھے تھے شکم میں
وہ خود کو ہماری ہی طرف پیل رہے تھے
ہم جرم شرافت کی سزا جھیل رہے تھے
یہ کہتے تھے، دبتے تھے، جو ہم اور زیادہ
اللہ کرے، زور شکم اور زیادہ
آگے جو بڑھے ہم تو ملی راہ سفر بند
لاری تھی حوالات، مسافر تھے نظر بند
اتنے میں خبر آئی، برا وقت پڑا ہے
پیدل ہی چلے جاؤ، دھرا ٹوٹ گیا ہے
لاری نے کسی طرح قدم ہی نہ بڑھاۓ
ہم خود ہی بدایوں تک اسے کھینچ کے لائے
رستے میں کچھ اس زور سے جھٹکے لگے دو تین
کچھ لوگ جو کمزور تھے، پڑھنے لگے یسین
گھر پہنچے تو اس شان سے ہم دھول میں اٹ کر
جیسے ابھی آۓ ہیں صحارا سے پلٹ کر
دلاور فگار