MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی سوچا نہ ہی سمجھا نہ سمجھداری کی

کبھی سوچا نہ ہی سمجھا نہ سمجھداری کی
میں نے ہر بار محبت کی طرفداری کی

تب کہیں جا کے محبت کی سمجھ آئی ہے
جب پرندوں نے درختوں کی عزاداری کی

جانے کس پیڑ پہ آ کر وہ کبھی نام لکھے
بس یہی سوچ کے ہر سال شجرکاری کی

ہم نے یاروں سے تعلق کو عبادت سمجھا
کبھی عیاری، نہ ہی اس میں ریاکاری کی

ایک صحرائی قبیلے سے تعلق ہے صغیر
مجھ کو آتی تھی وفا میں نے وفاداری کی

(صغیر احمد صغیر).

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم