Karb e Hijraan zabus hay kia kejyee
غزل
کرب ہجراں زبس ہے کیا کیجے
ہم کو تیری ہوس ہے کیا کیجے
نے دماغ وصال ہے ہم کو
کچھ انہیں پیش و پس ہے کیا کیجے
ہجر میں اس نگار تاباں کے
لمحہ لمحہ برس ہے کیا کیجے
نگہت گل کے آبگینوں میں
مرگ شیریں کا رس ہے کیا کیجے
گرچہ درویش ہے عظیمؔ مگر
اس کو تجھ سے بھی مس ہے کیا کیجے
عظیم قریشی
Azeem Qureshi