MOJ E SUKHAN

کسی کا عکس بدن تھا نہ وہ شرارہ تھا

غزل

کسی کا عکس بدن تھا نہ وہ شرارہ تھا
تو میں نے خیمۂ شب سے کسے پکارا تھا

کہاں کسی کو تھی فرصت فضول باتوں کی
تمام رات وہاں ذکر بس تمہارا تھا

مکاں میں کیا کوئی وحشی ہوا در آئی تھی
تمام پیرہن خواب پارہ پارہ تھا

اسی کو بار دگر دیکھنا نہیں تھا مجھے
میں لوٹ آیا کہ منظر وہی دوبارہ تھا

سبک سری نے گرانی عجیب کی دل پر
ہے اب یہ بوجھ کہ وہ بوجھ کیوں اتارا تھا

شب سیاہ سفر یہ بھی رائیگاں تو نہیں
وہ کیا ہوا جو مرے ساتھ اک ستارہ تھا

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم