MOJ E SUKHAN

کوئی ایسا کمال ہو جائے

غزل

کوئی ایسا کمال ہو جائے
ہجر سارا وصال ہو جائے

ایک اک لمحہ تیری قربت کا
زندگی کا جمال ہو جائے

آیتوں کی طرح خیال ترا
اترے اور مجھ پہ ڈھال ہو جائے

باندھ لوں خود کو دھیان سے تیرے
اور بچاؤ محال ہو جائے

آنکھ بیداریوں میں کھو جائے
رت جگوں کی مثال ہو جائے

تیری خوشبو حد وجود میں ہو
اور تکمیل حال ہو جائے

ناہید ورک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم