MOJ E SUKHAN

گرمیء جذبہء سراسر کا

گرمیء جذبہء سراسر کا
راز کھل جائے نا قلندر کا

ہو ادا گر زبان سے اس کی
کام کرتا ہے لفظ خنجر کا

دل میں رکھا تھا ایک پتھر کو
ہو گیا دل مرا بھی پتھر کا

کتنے صحرا سما گئے اس میں
حوصلہ دیکھئے سمندر کا

عشق نے کر دیا ہے دیوانہ
کر ادب جذبہء قلندر کا

پاؤں کھلنے نہیں دئے اس نے
مجھ پہ احساں ہے میری چادر کا

روح کے زخم کون گنتا ہے
تجزیہ ہو رہا ہے پیکر کا

نسیم بیگم نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم