MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر آنے جانے والے کا منہ دیکھتا رہا

غزل

ہر آنے جانے والے کا منہ دیکھتا رہا
میں رہ گزر پہ زیست کی تنہا کھڑا رہا

اس زندگی نے زخم دئے بارہا مگر
جانے ہر ایک زخم کو کیوں چومتا رہا

چھوڑا ہے آندھیوں نے نہ باقی نشان راہ
پھر بھی میں تیرا نقش قدم ڈھونڈھتا رہا

تنہا نہیں رہا ہوں میں تیرے فراق میں
دل پر تیرے ہی درد کا پہرا لگا رہا

دن کو تو سلسلے تھے غم روزگار کے
شب بھر ترے خیال کا تانتا لگا رہا

یاد حبیبؔ تھی کہ دھندھلکوں میں کھو گئی
دل میں سوائے خاک کے باقی بھی کیا رہا

جے کرشن چودھری حبیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم