MOJ E SUKHAN

یوں ہی کب تک اوپر اوپر دیکھا جائے

غزل

یوں ہی کب تک اوپر اوپر دیکھا جائے
گہرائی میں کیوں نہ اتر کر دیکھا جائے

تیز ہوائیں یاد دلانے آئی ہیں
نام ترا پھر ریت پہ لکھ کر دیکھا جائے

شور حریم ذات میں آخر اٹھا کیوں
اندر دیکھا جائے کہ باہر دیکھا جائے

گاتی موجیں شام ڈھلے سو جائیں گی
بعد میں ساحل پہلے سمندر دیکھا جائے

سارے پتھر میری ہی جانب اٹھتے ہیں
ان سے کب محفوظؔ مرا سر دیکھا جائے

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم