غزل
یہ بھی کیا عجب ہے معاملہ کوئی چل دیا کوئی آ گیا
مری بے بسی کا یہ سلسلہ مجھے بیچوں بیچ ہی کھا گیا
مرے فکر و خواب و خیال کی نہ کسی طرح بھی گرہ کُھلی
جو کہا کسی سے بتاۓ کچھ نئی اُلجھنوں میں پھنسا گیا
مرا جل ترنگ نہ دیکھۓ مری تاب و تب پہ نہ جائیے
میں تو وہ فضول سا نقش ہوں جسے نقش گر ہی مٹا گیا
رگ و پے میں تھا جو غبار سا اُسے وسعتیں وہ ملیں کہ بس
لبِ بام تھا جو دھرا ہوا وہ دیا بھی کوٸی بجھا گیا
مری تشنگی مرے ساقیا! تو مٹا سکے تو مٹا سکے
کہ سمندروں کا تو آسرا مجھے ریگزار بنا گیا
کٸ شاعروں کا خیال ہے کبھی سچ کہو نہ ہی سچ لکھو
کہ صعوبتوں کا نگر ہوا جہاں سچ کہا یا لکھا گیا
مجھے کہہ رہی تھی شرابِ غم تجھے ایسا نشّہ ہوا کبھی
ترے نام کے کئی واقعے میں بنا بنا کے سنا گیا
ہوا یوں کہ وہ بھی تھا دیدہ تر ، ہوا یوں کہ میں بھی تھا دیدہ تر
وہ جو لمحہ تھا نہ جداٸی کا ہمیں ایک ساتھ رُلا گیا
گُلِ آرزو سرِ شاخِ جاں تو خزاٶں میں بھی کھلا رہا
ترا یہ کرم مرے مہرباں مجھے سوکھنے سے بچا گیا
یہی آصف اوجِ کمال ہے خوۓ وصلِ یار نچوڑ کر
غمِ زندگی بڑے ڈھنگ سے مری شاعری میں سما گیا
آصف جاوید