MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ حادثہ ہے بتا دے کوئی زمانے کو

یہ حادثہ ہے بتا دے کوئی زمانے کو
کہ ہم نے آگ لگائی ہے آشیانے کو

تمہیں سکوں تو کسی کل ملے چمن والو
چلو جلا دیا خود ہم نے آشیانے کو

سلوک لطف و نگاہ کرم سے اے ساقی
شراب خانہ بنا دے شراب خانے کو

یہ بادہ خوار جو قیدی ہیں نشہ بندی کے
شراب خانہ بنا دیں گے قید خانے کو

تم اپنی تیغ کے دامن کو کیوں بھگوتے ہو
جہاں میں اور بھی غم ہیں مرے مٹانے کو

نہیں ہے وقت ابھی سازگار اے ساغرؔ
کبھی تو ہوگی مری جستجو زمانے کو

ساغر خیامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم