MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے کہ ساحل چاہتا ہوں میں

یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے کہ ساحل چاہتا ہوں میں
سمندر ہوں سمندر کو مقابل چاہتا ہوں میں

وہ اک لمحہ جو تیرے قرب کی خوشبو سے ہے روشن
اب اس لمحے کو پابند سلاسل چاہتا ہوں میں

وہ چنگاری جو ہے مشاق فن شعلہ سازی میں
اسے روشن تہہ خاکستر دل چاہتا ہوں میں

بہت بے زار ہے عمر رواں صحرا نوردی سے
پئے کار جنوں تازہ مشاغل چاہتا ہوں میں

نہ یہ خواہش کہ وہ مٹی میں میری جذب ہو جائے
نہ خود کو داستاں میں اس کی شامل چاہتا ہوں میں

عجب بسمل ہے عشرتؔ اپنے قاتل سے یہ کہتا ہے
سر محفل تجھے اے جان محفل چاہتا ہوں میں

عشرت ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم