MOJ E SUKHAN

آپ آتے تو بات بنتی بھی

غزل

آپ آتے تو بات بنتی بھی
آپ رکتے تو حال کہتے ناں

آپ کا ہجر سہہ لیا ہم نے
یہ قیامت جو آپ سہتے ناں

آپ ملتے تھے جی رہے تھے ہم
ملتے رہتے تو زندہ رہتے ناں

میرے پہلو میں چین ملتا تھا
میرے پہلو میں آپ رہتے ناں

آپ کہتے کہ لوٹ آؤں گا
آپ اک بار تو یہ کہتے ناں

کنول ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم