MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب اس سے بڑھ کے مجھے اور کیا سہولت ہو

غزل

اب اس سے بڑھ کے مجھے اور کیا سہولت ہو
میں تجھ کو یاد کروں سانس کی بھی فرصت ہو

فضا میں صرف ترے قہقہے رہیں باقی
اور اس زمین پہ تیری طلب سلامت ہو

تمہارے نام پہ جھگڑا ہو اور اس کے بعد
ہو ایسی جنگ کہ جس میں مری ہلاکت ہو

ترے وصال کے لمحے بکھر گئے مجھ سے
خدا کرے کہ ترے ہجر کی حفاظت ہو

میں چاہتا ہوں کوئی راستہ سجھائی دے
میں چاہتا ہوں مجھے دوسری محبت ہو

لگے ہوئے ہیں سماعت کی چاپلوسی میں
کوئی تو ہو کہ جسے بولنے کی حاجت ہو

میں روز کرتا ہوں ساحرؔ نئی اداکاری
بھلا نہ دوں جو اسے بھولنے کی نیت ہو

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم